اللولؤ والمرجان - حدیث 1285

كتاب الأضاحي باب جواز الذبح بكل ما أنهر الدم إِلا السن والظفر وسائر العظام صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى فَقَالَ: اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِهذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هكَذَا

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1285

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: ذبح ہر خون بہانے والی چیز سے درست ہے سوائے دانت، ناخن اور ہڈی کے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ!کل ہمارا مقابلہ دشمن سے ہو گا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جلدی کر لو یا (اس کے بجائے ) ’’ارن‘‘ کہا یعنی جلدی کر لو جو آلہ خون بہادے اور ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ۔ البتہ دانت اور ناخن نہ ہونا چاہئے اور اس کی وجہ بھی بتا دوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ (رافع کہتے ہیں)ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ پڑا تو ایک صاحب نے تیر مار کر اسے گرا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، اس لئے اگر ان میں سے کوئی تمہارے قابو سے باہر ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 23 باب ما ندّ من البهائم فهو بمنزلة الوحش