اللولؤ والمرجان - حدیث 1280

كتاب الأضاحي باب وقتها صحيح حديث جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيذْبَحْ بِاسْمِ اللهِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1280

کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: قربانی کا وقت حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا۔ پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو تو اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
تشریح : جمہور علماء کے نزدیک قربانی کرنا سنت ہے جس کی دلیل صحیح مسلم میں موجود حدیث ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھتا ہے اور قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ اب اس حدیث میں قربانی کو ارادہ سے معلق کیا ہے جو وجوب کی نفی کرتا ہے (بعض علماء کے ہاں قربانی کرنا واجب ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قربانی کو اس شخص پر واجب کہا ہے جو زکوٰۃ کے نصاب کا مالک ہو اور مقیم ہو مسافر نہ ہو)۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 23 باب كلام الإمام والناس في خطبة العيد جمہور علماء کے نزدیک قربانی کرنا سنت ہے جس کی دلیل صحیح مسلم میں موجود حدیث ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھتا ہے اور قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ اب اس حدیث میں قربانی کو ارادہ سے معلق کیا ہے جو وجوب کی نفی کرتا ہے (بعض علماء کے ہاں قربانی کرنا واجب ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قربانی کو اس شخص پر واجب کہا ہے جو زکوٰۃ کے نصاب کا مالک ہو اور مقیم ہو مسافر نہ ہو)۔