كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان باب النهي عن صبر البهائم صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ، أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ هذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هذَا
کتاب: شکار اور ذبح کے مسائل اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت حلال ہے
باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے
سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ تھا وہ چند جوانوں یا چند آدمیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی باندھ رکھی تھی اور اس پر تیر کا نشانہ لگا رہے تھے جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکو دیکھا تو وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا یہ کون کر رہا تھا؟ ایسا کرنے والوں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 25 باب ما يكره من المثلة والمصبورة والمجثمة