اللولؤ والمرجان - حدیث 1272

كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان باب إِباحة الضب صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهمْ سَعْدٌ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ، فَنَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَأَمْسَكُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا أَوِ اطْعَمُوا، فَإِنَّهُ حَلاَلٌ أَوْ قَالَ: لاَ بَأْسَ بِهِ وَلكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1272

کتاب: شکار اور ذبح کے مسائل اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت حلال ہے باب: گوہ کا گوشت حلال ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں سعد رضی اللہ عنہ بھی (دستر خوان پر بیٹھے ہوئے) تھے لوگوں نے گوشت کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ نے آگاہ کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ (آپ نے کلوا فرمایا یا اطعموا) اس لئے کہ حلال ہے یا فرمایا کہ اس کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ جانور میری خوراک نہیں ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 95 كتاب أخبار الآحاد: 6 باب خبر المرأة الواحدة