كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان باب إِباحة ميتة البحر صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثَمِائَةِ رَاكِبٍ، أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَى لَنَا الْبحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ، حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ، فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ، وَأَخَذَ رَجُلاً وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَه قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ
کتاب: شکار اور ذبح کے مسائل اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت حلال ہے
باب: دریا اور سمندر کے مردہ کا مباح ہونا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کو بنایا تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میںرہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے، ہمیں (اس سفر میں) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا‘ یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گزارا، اسی لئے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہوگیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لئے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا‘ اس کا نام عنبر تھا‘ ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور (اپنے جسموں) پر ملا اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی بعد میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے‘ انہیں اونٹ پر سوار کرایا، وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے‘ پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیئے جاتے تو سفر کیسے ہوتا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 65 باب غزوة سيف البحر