كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان باب الصيد بالكلاب المعلمة صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله عنه، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلاَبَ الْمُعَلَّمَةَ، قَالَ: كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ قُلْتُ: وَإِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ: كُلْ مَا خَزَقَ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلاَ تَأْكُلْ
کتاب: شکار اور ذبح کے مسائل اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت حلال ہے
باب: سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کا بیان
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم سکھائے ہوئے کتے (شکار پر) چھوڑتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شکار وہ صرف تمہارے لئے رکھیں اسے کھاؤ۔ میں نے عرض کیا اگرچہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں) اگرچہ مار ڈالیں۔ میں نے عرض کیا کہ ہم بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان کی دھار اس کو زخمی کر کے پھاڑ ڈالے تو کھاؤ لیکن اگر اس کے عرض سے شکار مارا جائے تو اسے نہ کھاؤ (وہ مردار ہے)۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 3 باب ما أصاب المعراض بعرضه