اللولؤ والمرجان - حدیث 1246

كتاب الإمارة باب فضل الغزو في البحر صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَتْ: فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غَزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ، فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعتْ عَنْ دَابَّتِهَا، حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1246

کتاب: امارت کے بیان باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے( یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں،جو حضرت عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپﷺ کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں، اس عرصے میں آپﷺ سو گئے، جب بیدار ہوئے تو آپﷺ مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لئے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں۔ (یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔)ام حرام رضی اللہ عنہ کہتی ہیںکہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!آپﷺ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی ۔ پھر آپﷺ اپنا سر رکھ کر سو گئے، اس مرتبہ بھی آپ جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!کس بات پر آپ مسکرا رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لئے جا رہے ہیں پہلے کی طرح، اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی (جو بحری راستے سے جہاد کرے گی) چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہ نے بحری سفر کیا، پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 3 باب الدعاء بالجهاد والشهادة للرجل والنساء