كتاب الإمارة باب المبايعة بعد فتح مكة على الإسلام والجهاد والخير وبيان معنى لا هجرة بعد الفتح صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللهَ لَنْ ِيَترَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا
کتاب: امارت کے بیان
باب: فتح مکہ کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا (یعنی یہ کہ آپ اجاز ت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اس کی تو شان بڑی ہے کیا تیرے پاس زکات دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکات دیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہے، سمندروں کے اس پار (جس ملک میں تو رہے وہاں) عمل کرتا رہ، اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا۔
تشریح :
آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب تم اپنے ملک میں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کر رہے ہو تو خوامخواہ ہجرت کا خیال کرنا ٹھیک نہیں۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 36 باب زكاة الإبل
آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب تم اپنے ملک میں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کر رہے ہو تو خوامخواہ ہجرت کا خیال کرنا ٹھیک نہیں۔ (راز)