اللولؤ والمرجان - حدیث 1218

كتاب الإمارة باب المبايعة بعد فتح مكة على الإسلام والجهاد والخير وبيان معنى لا هجرة بعد الفتح صحيح حديث مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: مَضَتِ الْهِجْرَةُ لأَهْلِهَا، أُبَايِعُهُ عَلَى الإِسْلامِ وَالْجِهَادِ فَلَقِيْتُ أَبَا مَعْبَدٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1218

کتاب: امارت کے بیان باب: فتح مکہ کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی ابو عثمان نہدی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں (اپنے بھائی ابو معبد رضی اللہ عنہ ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرانے کے لئے لے گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکا۔ البتہ میں اس سے اسلام اور جہادپر بیعت لیتا ہوں۔ ابو عثمان نے کہا کہ پھر میں نے ابو معبد رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا۔
تشریح : راوي حدیث:… حضرت مجاشع بن مسعود اسلمی رضی اللہ عنہ جالد کے بھائی ہیں۔ صفر ۳۶ھ میں جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ ان کے مشہور شاگرد ابو عثمان النہدی ہیں۔ اہل بصرہ نے ان سے روایت کی ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 53 باب وقال الليث راوي حدیث:… حضرت مجاشع بن مسعود اسلمی رضی اللہ عنہ جالد کے بھائی ہیں۔ صفر ۳۶ھ میں جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ ان کے مشہور شاگرد ابو عثمان النہدی ہیں۔ اہل بصرہ نے ان سے روایت کی ہے۔