كتاب الإمارة باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصى اللهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَد أَطَاعِني، وَمَنْ عَصى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي
کتاب: امارت کے بیان
باب: غیر معصیت میں بادشاہ یا حاکم یا امام کی اطاعت واجب ہے اور گناہ میں اطاعت حرام ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے (مقرر کئے ہوئے) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا)
تشریح :
لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا۔ (راز)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملاتے ہوئے ان کی شان اور تعظیم کا جو اہتمام کیا ہے امام خطابی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے عرب پیرو کار اور حلیف امارت کو نہیں جانتے تھے اور اپنے قبیلوں کے سرداروں کے علاوہ کسی کی اطاعت اور پیروی قبول نہیں کرتے تھے جب اسلام آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے امیر اور والی مقرر کیے تو انہیں یہ ناگوار گذرا اور بعض نے پیروی کرنے سے نکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ ان کی اطاعت میری اطاعت سے مربوط ہے اور ان کی نا فرمانی میری نا فرمانی سے مربوط ہے۔ اس طرح انہیں امراء کی اطاعت پر آمادہ کیا تاکہ کلمہ ایک رہے اور اُمت کا شیرازہ نہ بکھر جائے۔ (مرتب)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 1 باب قول الله تعالى (أطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم)
لیکن اگر امیر کا حکم قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنا ہو گا۔ (راز)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملاتے ہوئے ان کی شان اور تعظیم کا جو اہتمام کیا ہے امام خطابی اس کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے عرب پیرو کار اور حلیف امارت کو نہیں جانتے تھے اور اپنے قبیلوں کے سرداروں کے علاوہ کسی کی اطاعت اور پیروی قبول نہیں کرتے تھے جب اسلام آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے امیر اور والی مقرر کیے تو انہیں یہ ناگوار گذرا اور بعض نے پیروی کرنے سے نکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ ان کی اطاعت میری اطاعت سے مربوط ہے اور ان کی نا فرمانی میری نا فرمانی سے مربوط ہے۔ اس طرح انہیں امراء کی اطاعت پر آمادہ کیا تاکہ کلمہ ایک رہے اور اُمت کا شیرازہ نہ بکھر جائے۔ (مرتب)