كتاب الإمارة باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إِدخال المشقة عليهم صحيح حديث مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللهُ رَعِيَةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلاَّ لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
کتاب: امارت کے بیان
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی اور رعیت کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور ان کو مشقت میں مبتلا کرنے کی ممانعت
حسن بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا، تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ نے فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 93 كتاب الأحكام: 8 باب من استُرعِى رعية فلم ينصح