اللولؤ والمرجان - حدیث 1193

كتاب الإمارة باب الناس تبع لقريش والخلافة في قريش صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: النَّاسُ تَبعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِم، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1193

کتاب: امارت کے بیان باب: لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس (خلافت کے) معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں۔ عام مسلمان قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں جس طرح ان کے عام کفار قریشی کفار کے تابع رہتے چلے آئے ہیں۔
تشریح : یعنی خلافت اور امارت میں لوگ قریش کے تابع اور پیرو ہیں۔ کیونکہ انہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔ ایک رائے کے مطابق یہ خبر حکم اور امر کے معنی میں ہے یعنی مسلمان قریشی مسلمانوں کی اتباع اور پیروی میں ہوں گے۔ اور ان کے خلاف بغاوت جائز نہیں، اور کافر قریشی کافروں کی پیروی کریں گے۔ امام کرمانی فرماتے ہیں کہ یہ ان کی گذشتہ زمانے کی حالت کا بیان ہے کہ وہ زمانہ کفر میں مقتداء اور پیشوا ہی رہے ہیں۔ عرب لوگ قریش کو مقدم سمجھتے تھے اور ان کے حرم میں رہنے کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معبوث ہوئے اور اسلام کی دعوت دی تو اکثر عربوں نے آپ کی اتباع سے توقف اختیار کیا اور کہنے لگے کہ انتظار کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ سے کیا سلوک کرتی ہے پھر جب مکہ فتح ہوا اور قریش اسلام لے آئے تو عرب نے ان کی پیروی کی اور فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اور پھر خلافت بھی قریش میں برقرار رہی۔ تو سچ ہے کہ کافر قریشی کافروں کے پیروکار تھے اور مسلمان قریشی مسلمانوں کے پیرو بنے۔ (مرتب)
تخریج : أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 1 باب قول الله تعالى (يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى) یعنی خلافت اور امارت میں لوگ قریش کے تابع اور پیرو ہیں۔ کیونکہ انہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔ ایک رائے کے مطابق یہ خبر حکم اور امر کے معنی میں ہے یعنی مسلمان قریشی مسلمانوں کی اتباع اور پیروی میں ہوں گے۔ اور ان کے خلاف بغاوت جائز نہیں، اور کافر قریشی کافروں کی پیروی کریں گے۔ امام کرمانی فرماتے ہیں کہ یہ ان کی گذشتہ زمانے کی حالت کا بیان ہے کہ وہ زمانہ کفر میں مقتداء اور پیشوا ہی رہے ہیں۔ عرب لوگ قریش کو مقدم سمجھتے تھے اور ان کے حرم میں رہنے کی وجہ سے ان کی تعظیم کرتے تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معبوث ہوئے اور اسلام کی دعوت دی تو اکثر عربوں نے آپ کی اتباع سے توقف اختیار کیا اور کہنے لگے کہ انتظار کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ سے کیا سلوک کرتی ہے پھر جب مکہ فتح ہوا اور قریش اسلام لے آئے تو عرب نے ان کی پیروی کی اور فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اور پھر خلافت بھی قریش میں برقرار رہی۔ تو سچ ہے کہ کافر قریشی کافروں کے پیروکار تھے اور مسلمان قریشی مسلمانوں کے پیرو بنے۔ (مرتب)