كتاب الجهاد باب غزوة ذات الرقاع صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، وَكنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا وَحَدَّثَ أَبُو مُوسى بِهذَا، ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ
کتاب: جہاد کے مسائل
باب: غزوۂ ذات الرقاع کا بیان
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لئے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لئے صرف ایک اونٹ تھا‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے (پیدل طویل اور پرمشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے میرے بھی پاؤں پھٹ گئے۔ تھے ناخن بھی جھڑ گئے تھے، چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لئے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہئے تھی ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برامعلوم ہوا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 31 باب غزوة ذات الرقاع