كتاب الجهاد باب قتل كعب بن الأشرف طاغوت اليهود صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ: قُلْ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: إِنَّ هذَا الرَّجُلَ قَد سَأَلَنَا صَدَقَةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا، وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ قَالَ: وَأَيْضًا، وَاللهِ لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ وَقَدَ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ فَقَالَ: نَعَمْ، ارْهَنُونِي قَالُوا: أيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ قَالَ: ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا، وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ: فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكمْ قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُكَ أَبْنَاءَنَا، فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ فَيُقَالُ رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ، هذَا عَارٌ عَلَيْنَا، وَلكِنَّا نَرْهَنُكَ الَّلأْمَةَ (يَعْنِي السِّلاَحَ) فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَجَاءَهُ لَيْلاً وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ، وَهُوَ أَخو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْحِصْنِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ؛ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: أَيْنَ تَخْرُجُ هذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ قَالَتْ: أَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ قَالَ: إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ، إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لأَجَابَ قَالَ: وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ فَقَالَ: إِذَا مَا جَاءَ فَإِنِّي قَائِلٌ بَشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِنْ رَأْسِهِ فَدُونَكُمْ فَاضْرِبُوهُ وَقَالَ مَرَّةً: ثُمَّ أُشِمُّكُمْ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ مَتَوَشِّحًا، وَهُوَ يَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رِيحًا، أَيْ أَطْيَبَ قَالَ: عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ وَأَكْمَلُ الْعَرَبِ؛ فَقَالَ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشَمَّ رَأْسَكَ قَالَ: نَعَمْ فَشَمَّهُ ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ ثُمَّ قَالَ: أَتأْذَنُ لِي قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ، قَالَ: دُونَكُمْ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَوُا النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ
کتاب: جہاد کے مسائل
باب: یہود کے طاغوت کعب بن اشرف کا قتل
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت ستا رہا ہے، اس پر محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ آپ نے فرمایا‘ ہاں مجھ کو یہ پسند ہے۔ انہوں نے عرض کیا‘ پھر اپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں کہ میں اس سے کچھ باتیں کہوں۔ آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ اب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا: یہ شخص (ارادہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں تھکا مارا ہے، اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں اس پر کعب نے کہا‘ ابھی آگے دیکھنا‘ خدا کی قسم ! بالکل اکتا جاؤ گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا‘ چونکہ ہم نے بھی اب ان کی اتباع کر لی ہے اس لئے جب تک یہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے‘ انہیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں۔ میں تم سے ایک وسق یا (راوی نے بیان کیا کہ ) دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں اور ہم سے عمرو بن دینار نے یہ حدیث کی ایک دفعہ بیان کی لیکن ایک وسق یا دو وسق غلے کا کوئی ذکر نہیں کیا میں نے ان سے کہا کہ حدیث میں ایک وسق یا دو وسق کا بھی ذکر ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال ہے کہ حدیث میں ایک یا دو وسق کا ذکر آیا ہے) کعب بن اشرف نے کہا‘ ہاں‘ میرے پاس کچھ گروی رکھ دو‘ انہوں نے پوچھا‘ گروی میں تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا‘ اپنی عورتوں کو رکھ دو۔ انہوں نے کہا کہ تم عرب کے بہت خوبصورت مرد ہو۔ ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں؟ اس نے کہا‘ پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا‘ ہم بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں کل انہیں اسی پر گالیاں دی جائیں گی کہ ایک یا دو وسق غلے پر انہیں رہن رکھ دیا گیا تھا‘ یہ تو بڑی بے غیرتی ہوگی البتہ ہم تمہارے پاس اپنے ’’لامہ‘‘ گروی رکھ سکتے ہیں(یعنی ہتھیار)۔ سفیان نے کہا کہ مراد اس سے ہتھیار تھے۔محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور رات کے وقت اس کے یہاں آئے ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی موجود تھے وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انہوں نے آواز دی۔ وہ باہر انے لگا تو اس کی بیوی نے کہا کہ اس وقت (اتنی رات گئے) کہاں باہر جا رہے ہو؟ اس نے کہا ‘ وہ تو محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابونائلہ ہے (عمرو کے سوا (دوسرے راوی) نے بیان کیا کہ )اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے جواب دیا کہ میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں۔ شریف کو اگر رات میں بھی نیزہ بازی کے لئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب محمد بن مسلمہ اندر گئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے، سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا عمرو بن دینار نے ان کے نام بھی لئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ بعض کا نام لیا تھا۔ عمرونے بیان کیا کہ وہ آئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے اور عمرو بن دینار کے سوا انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے (سر کے) بال ہاتھ میں لے لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیا ہے تو پھر تم تیار ہو جانا اور اسے قتل کر ڈالنا عمرو نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ پھر میں اس کا سر سونگھوں گا آخر کعب چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا۔ اس کے جسم سے خوشبو پھوٹی پڑتی تھی۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا‘ آج سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے کبھی نہیں سونگھی کہ کعب اس پر بولا‘ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا‘ کیا تمہارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے؟ اس نے کہا‘ سونگھ سکتے ہو۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا۔ پھر انہوں نے کہا‘ کیا دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے؟ اس نے اس مرتبہ بھی اجازت دے دی پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ‘ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطلاع دی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 15 باب قتل كعب بن الأشرف