اللولؤ والمرجان - حدیث 1175

كتاب الجهاد باب ما لقي النبي صلی اللہ علیہ وسلم من أذى المشركين والمنافقين صحيح حديث جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ رضي الله عنه، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مَنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَالضُّحى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1175

کتاب: جہاد کے مسائل باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں اور منافقوں کے ہاتھوں جو تکلیف پائی اس کا ذکر حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتوں کو (تہجد کے لیے) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت (ابو لہب کی بیوی عوراء) آئی اور کہنے لگی اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ والضحیٰ نازل فرمائی… یعنی ’’قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔‘‘…آخر تک۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 93 سورة والضحى: 1 باب حدثنا أحمد بن يونس