اللولؤ والمرجان - حدیث 1165

كتاب الجهاد باب غزوة الطائف صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمْرِو، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا: نَذْهَبُ وَلاَ نَفْتَحُهُ وَقَالَ مَرَّةً، نَقْفُلُ فَقَالَ: اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ فَغَدَوْا، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ فَأَعْجَبَهُمْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1165

کتاب: جہاد کے مسائل باب: غزوۂ طائف کا بیان حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے‘ بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ان شااللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لئے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں (راوی نے ایک مرتبہ ’’نذھب‘‘ کے بجائے‘ ’’نقفل‘‘ کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لئے آجاؤ۔ صحابہ صبح سویرے ہی آگئے، لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہوگئی اب پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شااللہ ہم کل واپس چلیں گے صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف