اللولؤ والمرجان - حدیث 1157

كتاب الجهاد باب جواز قتال من نقض العهد، وجواز إِنزال أهل الحصن على حكم حاكم عدل أهل للحكم صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ؛ اللهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ؛ وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، إِلاَّ الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هذَا الَّذِي يأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا رضي الله عنه

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1157

کتاب: جہاد کے مسائل باب: جو عہد توڑ ڈالے اس سے لڑائی درست ہے اور محصورین قلعہ کو کسی عادل شخص کی ثالثی پر قلعہ سے باہر نکالنا جائز ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی ’’اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا۔ اب ایسامعلوم ہوتاہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی ختم کر دی ہے لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لئے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تونے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہوگیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا‘ اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف کیوں بہہ کر آرہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 30 باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب