كتاب الجهاد باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا نورث ما تركنا فهو صدقة صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ إِلَى بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ نَورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ
کتاب: جہاد کے مسائل
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’ہمارے ترکے کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہے‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث طلب کرنے کے لیے بھیجیں۔پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے یاد دلایا، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 85 كتاب الفرائض: 3 باب قول النبي صلي الله عليه وسلم : لا نورث ما تركنا صدقة