كتاب الجهاد باب حكم الفيء صحيح حديث عُمَرَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلاَحِ وَالْكُرَاعِ، عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ
کتاب: جہاد کے مسائل
باب: جو مال کافروں کا بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے اس کا حکم
سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو نضیر کے اموال (باغات وغیرہ)ان میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر لڑے دے دیا تھا۔ مسلمانوں نے ان کو حاصل کرنے کے لئے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تھے جن میں سے آپﷺ اپنی ازواج مطہرات علیہ السلام کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لئے) ہر وقت تیاری رہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب الجهاد والسير: 80 باب المجن من يتترس بترس صاحبه