كتاب الجهاد باب جواز قطع أشجار الكفار وتحريقها صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَنَزَلَتْ (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبإِذْنِ اللهِ)
کتاب: جہاد کے مسائل
باب: کافروں کے درخت کاٹنا اور جلانا جائز ہے
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کی کھجوروں کے باغات جلوا دئیے تھے اور ان کے درختوں کو کٹوا دیا تھا یہ باغات مقام بویرہ میں تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی’’ جو درخت تم نے کاٹ دئیے ہیں یا جنہیں تم نے چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی جڑوںپر کھڑے رہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔‘‘ (الحشر: ۵)
تخریج : أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 14 باب حديث بني النضير