اللولؤ والمرجان - حدیث 1139

كتاب الجهاد باب جواز قتل النساء والصبيان في البيات من غير تعمد صحيح حديث الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ: هُمْ مِنْهُمْ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1139

کتاب: جہاد کے مسائل باب: رات کے حملہ میں بغیر ارادے کے عورتوں اور بچوں کا قتل درست ہے حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں میرے پاس سے گزرے تو آپ سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شب خون مارا جائے گا کیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنا درست ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہی میں سے ہیں۔
تشریح : شریعت کا مقصد صرف یہ ہے کہ قصداً اور ارادہ کر کے عورتوں، بچوں یا لڑائی وغیرہ سے عاجز بوڑھوں کو لڑائی میں کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے اور نہ انہیں قتل کیا جائے۔ لیکن اگر مجبوری کی حالت ہو تو ظاہر ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں۔ (راز)
تخریج : أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 146 باب أهل الدار يبيتون فيصاب الولدان والذراري شریعت کا مقصد صرف یہ ہے کہ قصداً اور ارادہ کر کے عورتوں، بچوں یا لڑائی وغیرہ سے عاجز بوڑھوں کو لڑائی میں کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے اور نہ انہیں قتل کیا جائے۔ لیکن اگر مجبوری کی حالت ہو تو ظاہر ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں۔ (راز)