كتاب الأقضية باب الحكم بالظاهر واللحن بالحجة صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّه يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَدَقَ فَأَقْضِيَ لَهُ بِذلِكَ؛ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ فَلْيَتْرُكْهَا
کتاب: احکام اور فیصلوں کے مسائل
باب: فیصلہ ظاہری دلائل پر ہوتا ہے اور گفتگو میں مہارت کے سبب اپنے حق میں فیصلہ کرانے والے کے بارے میں حکم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں، اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ (فریقین میں سے) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں لیکن اگر میں اس کو اس کے ظاہری بیان پر بھروسا کرکے کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں، پس چاہے وہ لے لے یا چھوڑ دے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 16 باب إثم من خاصم في باطل وهو يعلمه