اللولؤ والمرجان - حدیث 1105

كتاب الحدود باب رجم اليهود أهل الذمة في الزنى صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ قَالَ: لاَ أَدْرِي

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1105

کتاب: حدود کے مسائل باب: زنا میں یہودیوں کے رجم کیے جانے کا بیان شیبانی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا سورۂ نور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں۔
تشریح : سورۂ نور کے اترنے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے زانیہ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کورے مارو۔ یہ بات دلائل سے ثابت ہو چکی ہے کہ رجم کا وقوع سورۂ نور کے نزول کے بعد بھی ہوا ہے کیونکہ اس کا سبب نزول واقعہ افک ہے جو چار یا پانچ یا چھ ہجری کو پیش آیا جبکہ رجم بعد میں بھی کیا گیا۔ واقعہ رجم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر تھے جو کہ سات ہجری کو مسلمان ہوئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمابھی رجم کو نقل کرتے ہیں جو کہ مدینہ میں ۹ ہجری کو اپنی والدہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ (مرتب)
تخریج : أخرجه البخاري في: 86 كتاب الحدود: 21 باب رجم المحصن سورۂ نور کے اترنے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے زانیہ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کورے مارو۔ یہ بات دلائل سے ثابت ہو چکی ہے کہ رجم کا وقوع سورۂ نور کے نزول کے بعد بھی ہوا ہے کیونکہ اس کا سبب نزول واقعہ افک ہے جو چار یا پانچ یا چھ ہجری کو پیش آیا جبکہ رجم بعد میں بھی کیا گیا۔ واقعہ رجم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر تھے جو کہ سات ہجری کو مسلمان ہوئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمابھی رجم کو نقل کرتے ہیں جو کہ مدینہ میں ۹ ہجری کو اپنی والدہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ (مرتب)