اللولؤ والمرجان - حدیث 1095

كتاب القسامة باب دية الجنين ووجوب الدية في قتل الخطأ وشبه العمد على عاقلة الجاني صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بَحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ؛ فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ، يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكلَ، وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بطَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكهَّانِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1095

کتاب: قسامہ کے مسائل باب: پیٹ کے بچے کی دیت، قتل، خطا اور شبہ عمد کی دیت قاتل کے والد کے رشتہ داروں پر ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں فیصلہ کیا، جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت(ام عطیف بنت مروح) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا (جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لئے اس کے پیٹ کا بچہ (پتھر کی چوٹ) سے مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی (حمل بن مالک بن نابغہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول !میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہوسکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔ (جب ہی تو کاہنوں کی طرح مسجع اور مقفی فقرے بولتا ہے)
تخریج : أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 46 باب الكهانة