كتاب القسامة باب ما يباح به دم المسلم صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ الْجَمَاعَةَ
کتاب: قسامہ کے مسائل
باب: مسلمان کا قتل کب درست ہے
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے، البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا (مرتد) جماعت کو چھوڑ دینے والا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 6 باب قوله تعالى (أن النفس بالنفس)