اللولؤ والمرجان - حدیث 1090

كتاب القسامة باب إثبات القصاص في الأسنان وما في معناها صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبيِّعُ، وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ؛ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: لاَ وَاللهِ لاَ تُكْسَرُ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1090

کتاب: قسامہ کے مسائل باب: دانتوں اور اس طرح کے دیگر اعضاء میں قصاص کا بیان حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ربیع نے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیئے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم! ان کا دانت نہ توڑا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، انس! لیکن کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے۔ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 5 سورة المائدة: 6 باب قوله (والجروح قصاص)