اللولؤ والمرجان - حدیث 1088

كتاب القسامة باب الصائل على نفس الإنسان أو عضوه إِذا دفعه المصول عليه فأتلف نفسه أو عضوه لا ضمان عليه صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً عَضَّ يَدَ رَجُل، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لاَ دِيَةَ لَكَ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1088

کتاب: قسامہ کے مسائل باب: جب کوئی کسی کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کادفاع کرے اور مدافعت میں حملہ آور کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کوئی تاوان نہ ہو گا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ پر دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس (کاٹنے والے)کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے، پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے، تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 8 باب إذا عض رجلاً فوقعت ثناياه