كتاب الأيمان باب من حلف باللات والعزى فليقل لا إله إلا الله صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَالَّلاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ؛ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ، تَعَالَ أُقَامِرْك، فَلْيَتَصَدَّقْ
کتاب: قسموں کے مسائل
باب: جو لات و عزیٰ کی قسم کھائے اسے لا الہ الا اللہ پڑھنا چاہیے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کے لیے کہنا چاہئے (لا الٰہ اللہ) اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ دینا چاہئے۔
تشریح :
کلمہ توحید پڑھنے کا حکم اس شخص کے لیے دیا گیا جو نیا نیا اسلام میں داخل ہوا تھا۔ چونکہ پہلے سے یہ شرکیہ کلمات زبان پر چڑھے ہوئے تھے، اس لیے فرمایا کہ اگر غلطی سے زبان پر اس طرح کے کلمات آ جائیں تو فوراً اس کی تلافی کر لینی چاہیے۔ (راز)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 53 سورة والنجم: 2 باب أفرأيتم اللات العزى
کلمہ توحید پڑھنے کا حکم اس شخص کے لیے دیا گیا جو نیا نیا اسلام میں داخل ہوا تھا۔ چونکہ پہلے سے یہ شرکیہ کلمات زبان پر چڑھے ہوئے تھے، اس لیے فرمایا کہ اگر غلطی سے زبان پر اس طرح کے کلمات آ جائیں تو فوراً اس کی تلافی کر لینی چاہیے۔ (راز)