كتاب الوصية باب ترك الوصية لمن ليس له شيء يوصي فيه صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَ دَمْعُهُ الْحَصْبَاءَ، فَقَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِكِتَابٍ، أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا: هَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلاَثٍ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
کتاب: وصیت کے مسائل
باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ جمعرات کے دن، اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔ آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی تو آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ قلم دوات لاؤ، تاکہ میں تمہارے لئے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم (میرے بعد اس پر چلتے رہو تو) کبھی گمراہ نہ ہو سکو۔ اس پر صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (بیماری کی شدت سے) برا رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو، میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔ آخر آپؐ نے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا، جیسے میں کرتا رہا (ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔
تشریح :
تیسری وصیت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو بھیجنا تھا۔ مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وقت اس کا وعدہ لیا تھا اور وصیت کی تھی۔ (مرتب)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 176 باب هل يستشفع إلى أهل الذمة ومعاملتهم
تیسری وصیت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو بھیجنا تھا۔ مسلمانوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے وقت اس کا وعدہ لیا تھا اور وصیت کی تھی۔ (مرتب)