كتاب الوصية باب ترك الوصية لمن ليس له شيء يوصي فيه صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى عَنْ طَلْحَةَ ابْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصى قَالَ: لاَ فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاس الْوَصِيَّةُ، أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ: أَوْصى بِكِتَابِ اللهِ
کتاب: وصیت کے مسائل
باب: جس کے پاس کوئی شے قابل وصیت نہ ہو اس کو وصیت نہ کرنا درست ہے
حضرت طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی؟ یا (راوی نے اس طرح بیان کیا) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کر دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔ (اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لئے حکم موجود ہے)
تخریج : أخرجه البخاري في: 55 كتاب الوصايا: 1 باب الوصايا وقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم وصية الرجل مكتوبة عنده