اللولؤ والمرجان - حدیث 1055
كتاب الوصية باب وصول ثواب الصدقات إلى الميت صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1055
کتاب: وصیت کے مسائل
باب: صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور میر اخیال ہے کہ اگر انھیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کردوں تو کیا انھیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ملے گا۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 95 باب موت الفجأة البغتة