كتاب المساقاة باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها صحيح حديث سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نفَيْلٍ، أَنَّهُ خَاصَمَتْه أَرْوى فِي حَقِّ، زَعَمَتْ أَنَّهُ انْتَقَصَهُ لَهَا، إِلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقولُ: مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
کتاب: مساقات کے مسائل
باب: ظلم کرنا اور دوسرے کی زمین چھیننا حرام ہے
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا ارویٰ بنت ابی اوس سے ایک (زمین کے) بارے میں جھگڑا ہوا۔ جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی ہے۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلہ کیلئے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا میں گواہ دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔
تشریح :
راوي حدیث:… حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں شام بھیجا تھا، البتہ مال غنیمت میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے مسلمان ہوئے۔ یرموک اور دمشق کی فتح میں شامل تھے۔ ۴۸ احادیث کے راوی ہیں۔جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔ ۷۳ سال کی عمر میں عتیق مقام پر وفات پائی اور مدینہ میں دفن ہوئے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا تھا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے ارویٰ کے لیے اپنے حق کو چھوڑ دیا تھا اور بد دعا کی تھی کہ یا اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے آنکھوں سے نابینا کر دے اور اس کے گھر کو اس کی قبر بنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کی۔ وہ نابینا ہوئی اور اپنے گھر میں موجود کنویں کے پاس سے گزرنے لگی تو اس میں گر گئی۔ اس طرح وہ کنواں اس کی قبر بنا۔ (مرتب)
تخریج :
أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 2 باب ما جاء في سبع أرضين
راوي حدیث:… حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں شام بھیجا تھا، البتہ مال غنیمت میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے مسلمان ہوئے۔ یرموک اور دمشق کی فتح میں شامل تھے۔ ۴۸ احادیث کے راوی ہیں۔جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔ ۷۳ سال کی عمر میں عتیق مقام پر وفات پائی اور مدینہ میں دفن ہوئے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا تھا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے ارویٰ کے لیے اپنے حق کو چھوڑ دیا تھا اور بد دعا کی تھی کہ یا اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے آنکھوں سے نابینا کر دے اور اس کے گھر کو اس کی قبر بنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کی۔ وہ نابینا ہوئی اور اپنے گھر میں موجود کنویں کے پاس سے گزرنے لگی تو اس میں گر گئی۔ اس طرح وہ کنواں اس کی قبر بنا۔ (مرتب)