كتاب المساقاة باب بيع الطعام مثلاً بمثل صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه، قَالَ: كنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، وَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، وَلاَ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ
کتاب: مساقات کے مسائل
باب: دو جنس غلہ کی بیع جائز ہے، جب وہ برابر برابر ہوں
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 20 باب بيع الخلط من التمر