اللولؤ والمرجان - حدیث 1018

كتاب المساقاة باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ: لاَ، هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عِنْدَ ذلِكَ: قَاتَلَ اللهُ الْيهُودَ، إِنَّ اللهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1018

کتاب: مساقات کے مسائل باب: شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام ہے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کابیچنا حرام قرار دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یارسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کاکام لیتے ہیں اورلوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے! اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 112 باب بيع الميتة والأصنام