اللولؤ والمرجان - حدیث 1015

كتاب المساقاة باب حل أجرة الحجامة صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفوا عَنْهُ وَقَالَ: إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1015

کتاب: مساقات کے مسائل باب: پچھنے لگانے کی اُجرت حلال ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تھا آپ کو ابو طیبہ (نافع یا میسرہ) نے پچھنا لگایا تھا آپ نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ نے ان کے مالکوں (بنو حارثہ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کئے جانے والے لگان میں کمی کردی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (خون کے دباؤ کا) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عود ہندی کا استعمال کرنا ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 13 باب الحجامة من الداء