اللولؤ والمرجان - حدیث 1009

كتاب المساقاة باب تحريم بيع فضل الماء صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1009

کتاب: مساقات کے مسائل باب: جو پانی زیادہ ہو، اس کا بیچنا حرام ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے ہوئے پانی سے کسی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس طرح جو ضرورت سے زیادہ گھاس ہو، وہ بھی رکی رہے۔
تشریح : حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کی زمین میں صحراکے اندر پانی جمع ہو یا چشمہ پھوٹ نکلے اور اس کے ارد گرد گھاس ہو۔ اب اس گھاس پر مویشی تب ہی چرنے کے لیے آسکتے ہیں جب کہ پانی والا پانی پینے سے نہ روکے۔ اس لیے پانی والے کو شریعت نے منع کیا ہے کہ وہ اپنے سے فاضل اور زائد پانی کے استعمال سے نہ روکے کیونکہ پانی کے روکنے سے وہ گھاس سے منع کر رہا ہے جب کہ گھاس سے روکنے میں لوگوں کو تکلیف اور نقصان دینا پایا جاتا ہے۔ (مرتبؒ)
تخریج : أخرجه البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 2 باب من قال إن صاحب الماء أحق بالماء حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کی زمین میں صحراکے اندر پانی جمع ہو یا چشمہ پھوٹ نکلے اور اس کے ارد گرد گھاس ہو۔ اب اس گھاس پر مویشی تب ہی چرنے کے لیے آسکتے ہیں جب کہ پانی والا پانی پینے سے نہ روکے۔ اس لیے پانی والے کو شریعت نے منع کیا ہے کہ وہ اپنے سے فاضل اور زائد پانی کے استعمال سے نہ روکے کیونکہ پانی کے روکنے سے وہ گھاس سے منع کر رہا ہے جب کہ گھاس سے روکنے میں لوگوں کو تکلیف اور نقصان دینا پایا جاتا ہے۔ (مرتبؒ)