اللولؤ والمرجان - حدیث 1004

كتاب المساقاة استحباب الوضع من الدين صحيح حديث كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى يَا كَعْبُ قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هذَا وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ

ترجمہ اللولؤ والمرجان - حدیث 1004

کتاب: مساقات کے مسائل باب: قرض سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے ، اگر قرض دار کو تکلیف ہو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میںعبداللہ بن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آواز سے ہونے لگی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا: اے کعب! کعب ( رضی اللہ عنہ ) بولے، ہاں اے اللہ کے رسول! فرمایئے کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کردو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کردیں۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے (بخوشی) ایسا کردیا۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا: اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو۔ (جو آدھا معاف کردیا گیاہے)
تخریج : أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 71 باب التقاضي والملازمة في المسجد