Book - حدیث 992

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ إِقَامَةِ الصُّفُوفِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» قَالَ، قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»

ترجمہ Book - حدیث 992

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: صفیں سیدھی کرنا سیدنا جابر بن سمرہ سوائی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ’’تم اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں بناتے ہیں؟ ‘‘راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ‘‘ 1۔شریعت اسلامیہ میں عبادت کے طریقے فرشتوں کی عبادت کے طریقوں سے مشابہ ہیں۔اور یہ بہت بڑا شرف ہے۔2۔فرشتے اللہ کی عبادت کےلئے صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔3۔جب تک پہلی صف مکمل نہ ہوجائے۔دوسری صف شروع نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی صف بنائی جائے۔4۔صف میں کھڑے ہوتے وقت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوناچاہیے۔دو آدمیوں کے درمیان خالی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملاکر کھڑے ہوتے تھے۔دیکھئے۔(صحیح البخاری الاذان باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف حدیث 725)