Book - حدیث 983

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ صحیح حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مَنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ»

ترجمہ Book - حدیث 983

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امام کے فرائض سیدنا ابو علی ہمدانی ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں سفر پر روانہ ہوئے۔ کشتی میں سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ بھی موجود تھے۔ (سفر کے دوران میں) نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے درخواست کی کہ نماز پڑھادیں اور ہم نے ان سے عرض کیا: آپ اس (امامت) کا زیادہ حق رکھتے ہیں کیوں کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے:’’جو شخص لوگوں کا امام بنے اور صحیح طریقے سے نماز پڑھائے تو اسے بھی نماز کا ثواب ملے گا اور ان کو بھی۔ اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی( اور غلطی) کی تو اسے گناہ ہوگا، انہیں نہیں۔ ‘‘ اس میں صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کی احتیاط اور ان کے ورع تقویٰ کا بیان ہے۔کہ وہ کوتاہی کے ڈر سے دینی فرائض کی ذمے د اری لینے میں تامل کرتے تھے۔