Book - حدیث 98

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِؓ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَمَّا وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ، اكْتَنَفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ - أَوْ قَالَ يُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ - عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ زَحَمَنِي، وَأَخَذَ بِمَنْكِبِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أَكْثَرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» ، فَكُنْتُ أَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ

ترجمہ Book - حدیث 98

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل ومناقب حضرت ابن ابو ملیکہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے ابن عباس ؓ سے سنا کہ جب حضرت عمر ؓ کی میت کو چار پائی پر لٹایا گیا تو جنازہ اٹھانے سے پیشتر لوگ ارد گرد جمع ہو کر ان کے لئے دعائیں کرنے لگے۔ یا فرمایا: جنازہ اٹھانے سے پہلے ان کی تعریف کرنے لگے اور ان کے لئے دعائیں کرنے لگے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ میں( اپنے خیالات سے) اس وقت چونکا، جب مجھے ایک شخص کا دھکا لگا، اور اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی بن ابو طالب ؓ تھے۔ انہوں نے حضرت عمر ؓ کے لئے دعائے رحمت فرمائی۔ پھر بولے: آپ سے بڑھ کر کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے عملوں جیسے اعمال لے کر میں اللہ کے پاس جانے کی خواہش رکھتا ہو۔ اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ ) کے ساتھ رکھے گا۔ کیوں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اکثر اس قسم کے الفاظ سنا کرتا تھا، آپ فرماتے تھے:‘‘ میں اور ابو بکر اور عمر،(فلاں جگہ) گئے ،میں اور ابو بکر اور عمر داخل ہوئے، میں اور ابو بکر اور عمر باہر نکلے۔’’ اس لئے مجھے( پہلے ہی )یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور آپ کے دونوں ساتھیوں سے ملا دے گا۔ (1) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بہت مقام تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملے میں ان دونوں حجرات (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ (2) حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت شیخین رضی اللہ عنہما کو اپنے سے افضل سمجھتے تھے، اس لیے تمنا کرتے تھے کہ کاش ان جیسے اعمال کی توفیق ملے۔ (3) نیکی کے کاموں میں اپنے سے افضل شخصیت کے اتباع کی کوشش کرنا مستحسن عمل ہے، البتہ دنیا کے مال و دولت میں یا برے کاموں میں اپنے سے آگے بڑھے ہوئے شخص پر رشک کرنا درست نہیں۔ (4) رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے شیخین کو اکثر ساتھ رکھنے اور ان کا تذکرہ کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا تمام صحابہ سے بڑھ کر مرتبہ و مقام تھا۔