Book - حدیث 979

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ صحیح حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ، قَالَ لَنَا «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»

ترجمہ Book - حدیث 979

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امامت کا زیادہ حق دار کون ہے؟ سیدنا مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میرا ایک ساتھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب ہم نے واپس ( وطن) جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ’’جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم لوگ اذان اور اقامت کہنا اور تمہارا امام وہ بنے جو تم دونوں میں سے زیادہ بڑا ہے۔ ‘‘ ۔1۔سفر میں بھی نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے۔2۔دو آدمی بھی جماعت سے فرض نماز ادا کرسکتے ہیں۔3۔اذان یا اقامت کوئی بھی آدمی کہہ سکتا ہے خواہ بڑی عمروالا ہویا کم عمر۔4۔امامت کا زیادہ مستحق قرآن زیادہ جاننے والا ہے ۔لیکن چونکہ یہ دونوں صحابی اکھٹے ہی آئے تھے۔لہذا قرآن کے علم میں دونوں برابر تھے۔اس لئے رسول اللہﷺ نے عمر کالحاظ فرمایا۔