Book - حدیث 968

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلَاةِ موضوع - بهذا اللفظ، وصحيح بدون " ولا يعوى " حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَلَا يَعْوِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ

ترجمہ Book - حدیث 968

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: جو اعمال نماز میں مکروہ ہیں سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے اور آواز نہ نکالے کیوں کہ شیطان اس سے ہنستا ہے۔‘‘ ۔(لایعوی) کا مطلب ہے کہ جانور ( کتے یا بھڑیے وغیرہ) کی طرح آواز نہ نکالے۔یہ لفظ بھی صحیح سندسے مروی نہیں لیکن بہ حیثیت مجموعی حدیث کامفہوم صحیح احادیث سے ثابت ہے۔2۔جمائی کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تاکہ نامناسب آواز نہ نکلے ارشاد نبوی ہے۔''جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔اسے جہاں تک ہوسکے ر وک دے کیونکہ جب وہ (جمائی لینے والا) ''ہا''کہتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔''(صحیح البخاری ۔الادب باب اذصا تثاءب فلیضع یدہ علی فیہ حدیث 6226)3۔شیطان کے ہنسنے کی وجہ یا تو انسان کا مذاق اڑانا ہے۔یا وہ خوشی سے ہنستا ہے۔ کیونکہ جمائی سستی اور کاہلی کی علامت ہے جو شیطان کو پسند ہے۔ اس لئے کہ کاہلی کی وجہ سے انسان بہت سی نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔