Book - حدیث 959

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ»

ترجمہ Book - حدیث 959

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: اگرنمازی کے سامنے کوئی چیز ہو سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے باتیں کرنے والے اور سوئے ہوئے کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ ۔1۔گزشتہ حدیثوں سے معلوم ہوچکا ہے کہ سوئے ہوئے انسان کے پیچھے نماز پڑھنا جائزہے۔اس حدیث سے اس کے برعکس معلوم ہوتاہے۔اس لئے اس نہی کو تنزیہ طور پر محمول کیا جائےگا۔ یعنی اس سے اجتناب بہتر ہے۔جبکہ اس سے نماز کے خشوع اور توجہ میں فرق آتا ہو۔2۔جب سامنے کچھ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے ہوں تب بھی نماز سے توجہ ہٹتی ہے اس لئے ایسی جگہ نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔