Book - حدیث 957

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ صحیح حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ «كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ترجمہ Book - حدیث 957

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: اگرنمازی کے سامنے کوئی چیز ہو سیدہ زینب بنت ابو سلمہ ؓ نے اپنی والدہ( ام المومنین ام سلمہ ؓا) سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان ( ام المومنین ؓا) کا بستر رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کے مقام کے برابر ہوتا تھا۔ ۔نماز پڑھتے وقت اگر نمازی کی بیوی قریب لیٹی ہوئی ہو تو کوئی حرج نہیں۔اس صورت میں یہ شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نماز کے دوران میں اس کی طرف توجہ ہونے کا اندیشہ ہے اگر واقعی اس قسم کی صورت حال پیش آجائے کہ نماز کیطرف کما حقہ تونہ نہ رہ سکے تو اجتناب کرسکتا ہے ورنہ جواز میں کوئی شبہ نہیں۔