Book - حدیث 940

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي حسن صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ، تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»

ترجمہ Book - حدیث 940

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نمازی کا سترہ سیدنا طلحہ بن عبداللہ تیمی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزر رہے تھے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’کسی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنی چیز( سترہ کے طور پر) موجود ہو تو آگے سے گزرنے والا اسے کوئی نقصان نہ دے گا۔‘‘ ۔1۔جب کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو۔ جہاں عام لوگوں کا اس کے آگے سے گزرنے کا اندیشہ ہو تو سترہ رکھ لینا مسنون ہے۔2۔سترہ کس طرح کا یہ کتنا اونچا ہو۔؟ اس کی حد اس حدیث سے متعین ہوجاتی ہے۔کہ وہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا ہو۔یہ تقریبا ً سوا یا ڈیڑھ فٹ ہوتی ہے۔اس اعتبار سے سترہ کم از کم سوا یا ڈیڑھ فٹ اونچا ہونا چاہیے۔3۔اس میں اشارہ ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے کوئی شخص گزرے تو نمازی کی نماز متاثر ہوگی۔اس سے بعض علماء نے یہ مراد لیا ہے۔کہ خشوع خضوع میں فرق پڑتا ہے۔جب کہ ستر ہ ہونے کی صورت میں نمازی کی توجہ محدود جگہ میں رہتی ہے۔صحیح مسلم میں ارشاد نبوی ﷺ ہے۔ کے بغیر سترے کے نماز پڑھنے والے کی نماز عورت۔گدھے اور کالے کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔(صحیح المسلم صلاۃ باب قدر مایستر المصلی۔حدیث 510)سنن ابن ماجہ میں(حدیث 949 )المراۃ الحائض کے الفاظ ہیں۔جس سے مراد بالغ عورت ہے ممکن ہے اس سے یہ مراد ہو۔کہ عورت ایام حیض میں ہوتو اس کے گزرنے سے نماز ٹوٹتی ہے ورنہ نہیں لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔واللہ اعلم۔4۔شیخ احمدشاکررحمۃ اللہ علیہ (مصری)نے سنن ابو دائود کی حدیث ( لايقطع الصلاة شئي)(سنن ابی دائود الصلاۃ باب من قال لا یقطع الصلاۃ شیئ حدیث 719),نماز کسی چیز کے گزرنے سے نہیں ٹوٹتی),کو ان تمام احادیث کاناسخ قرار دیا ہے۔اور مزید کہا کہ (سنن دراقطنی 367/3 وسنن الکبریٰ اللبہیقی 278/2) کی روایت سے اس رائے کی تایئد ہوتی ہے۔تفصیل کےلے دیکھئے۔(جامع ترمذی الصلاۃ باب ماجاء انہ لایقطع الصلاۃ الا الکلب والحمار ولمراۃ حدیث 338 حاشیہ شٰخ احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ )4۔سترے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گزرنا چاہے تو سترے سے پرے گزر جائے سترے اور نمازی کے درمیان سے نہ گزرے۔