Book - حدیث 922

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ رَدِّ السَّلَامِ عَلَى الْإِمَامِ ضعیف - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ»

ترجمہ Book - حدیث 922

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امام کو سلام کا جواب دینا سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو سلام کہیں اور ہم ایک دوسرے کو سلام کہیں۔ ‘‘ حدیث نمبر 922۔فائدہ۔یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔اس لئے ان سے جواب دینے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔