Book - حدیث 903

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّﷺ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ Book - حدیث 903

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نبی ﷺ پر درود شریف کے پڑھنے کا بیان سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ہمیں آپ کو سلام کہنے کا طریقہ تو معلوم ہو چکا ہے لیکن درود کیسے پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فرمایا: ’’کہو(اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ) ’’اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد(ﷺ) پر رحمت نازل فر جس طرح تو نے ابراہیم( علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی۔ اور محمد(ﷺ) پر اور محمد(ﷺ) کی آل پر برکت نازل فر جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکت نازل فرمائی۔‘‘ 1۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔( ِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)(الاحزاب 56۔),بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریمﷺ پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے مومنو! تم بھی ان پر درود پڑھو اور سلام عرض کرو۔,صحابہ رضوان للہ عنہم اجمعین نے اس آیت کی وضاحت دریافت فرمائی۔ تو رسول اللہ ﷺنے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا۔2۔سلام کہنے کا طریقہ نماز کے باہر تو وہی ہے۔جو عام مسلمانوں کا باہمی سلام ہے۔صحابہ نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ تو اس معروف طریقے سے سلام عرض کرتے تھے۔نماز کے اندر سلام کا طریقہ پچھلے باب میں بیان ہوچکا۔اس لئے صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین نے کہا کہ سلام ہمیں معلوم ہے۔3۔صلاۃ کا مطلب دعا رحمت اور درود ہے۔نماز کو بھی صلاۃ اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ دعائوں پر مشتمل ہے مومنوں اور فرشتوں کی طرف سے نبی پردرود بھی ایک دعا ہے۔جیسے کہ درود شریف کے الفاظ سے واضح ہے۔اللہ کی طرف سے نبی کریمﷺ پر صلاۃ (درود) کا مطلب انسانوں اور فرشتوں کی دعا قبول کرکے اپنے نبی ﷺ پر رحمت نازل کرنا اور اس کے درجات بلند کرنا ہے۔4۔درود کا حکم ہونے پر صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین نے اپنی طرف سے مناسب الفاظ جمع کرکے دعا نہیں بنائی۔بلکہ رسول اللہﷺ سے اس کا طریقہ معلوم کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اذکار کے الفاظ وہی درست ہوتے ہیں۔جو قرآن وحدیث سے ثابت ہوں۔ان الفاظ میں کمی بیشی کرنا یا اپنے پا س سے ا ذکار بنا لینا درست نہیں۔نہ ان خود ساختہ اذکار کا کوئی ثواب ہے۔5۔آل سے عام طور پر اولا مراد لی جاتی ہے لیکن شریعت کی اصطلاح میں آل سے مراد وہ سب لوگ ہوتے ہیں۔جو کسی عظیم شخصیت سے محبت رکھنے والے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔اسی طرح کسی دنیاوی سردار کے ساتھی اور متبعین کو بھی اس کی آل کہا جاسکتا ہے۔جیسے کہ قران مجید میں آل فرعون کے الفاظ وارد ہیں۔حالانکہ فرعون کی کوئی صلبی اولاد نہ تھی۔اسی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیٹے کے طور پر پالنا منظور کرلیا تھا۔6۔درود شریف کے مختلف الفاظ صحیح احادیث میں وارد ہیں۔ان میں سے کسی بھی صحیح روایت کے مطابق درود شریف پڑھ لینا درست ہے۔اس سلسلے میں بعض روایات اسی باب میں آرہی ہیں۔