Book - حدیث 900

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

ترجمہ Book - حدیث 900

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: تشہد کا طریقہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے ( التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِىُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) ’’برکتوں والے آداب، پاکیزہ عبادات ، اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکات( نازل) ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔ ‘‘ 1۔قرآن کیطرح دعا سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ بہت اہتمام اور توجہ سے یہ دعا سکھائی۔اس سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ دعا نماز میں ضرور پڑھنی چاہیے۔2۔جس طرح قرآن کے الفاظ گھٹا بڑھا لینا جائز نہیں لیکن بعض الفاظ کئی طرح نازل ہوئے ہیں۔اور ان طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے انھیں پڑھنا درست ہے۔اسی طرح جو دعایئں کئی طرح مروی ہیں۔انھیں انہی روایت شدہ طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے پڑھا جاسکتا ہے۔3۔(ایھاالنبی),اے نبی! سے مقصود رسول اللہﷺ کو سنانا نہیں۔بلکہ یہ الفاظ اسی طرح پڑھے جاتے ہیں۔جس طرح قرآن مجید کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں۔مثلاً (ينوح. يا ابراهيم.يا ايها المزمل.يا ايهاالذين امنوا.ياايهاالناس.يبني آدم.يفرعون.يهامن)وغیرہ۔ان کو پڑھتے وقت قاری انھیں مخاطب کرنے کی نیت نہیں رکھتا اور نہ حاضروموجود سمجھتا ہے۔