Book - حدیث 898

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي»

ترجمہ Book - حدیث 898

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: (نمازی) دو سجدوں کے درمیان (جلسہ میں)کیا کہے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نماز( تہجد) میں دو سجدوں کے درمیان( جلسہ میں) یوں کہتے تھے:( رَبِّ اغْفِرْ لِى وَارْحَمْنِى وَاجْبُرْنِى وَارْزُقْنِى وَارْفَعْنِى ) ’’اے میرے رب! میری مغفرت فر ، مجھ پر رحم کر، میرے نقص دور فرما، مجھے رزق دے اور مجھے بلندی عطا فرما۔‘‘ 1۔ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سندا ضعیف قرار دیاہے۔جبکہ دیگر محققین نے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثۃ مسند امام احمد بن حنبل 73/5 حدیث 2895۔ وصفۃ الصلاۃ للبانی وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشارعواد 163/2۔164 حدیث 898) بنا بریں مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود قابل حجت اور قابل عمل ہے۔2۔یہ دعاقدرے مختلف الفاظ سے جامع الترمذی اور سنن ابودائود میں بھی موجود ہے۔زیل میں ان دونوں روایات کے مطابق بھی دعا ددرج کی جاتی ہے۔تاکہ آ پ ان میں سے جس طریقے سے چاہیں دعا پڑھ سکیں۔(الف)اللهم اغفرلي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني(جامع الترمذي الصلاة باب ما يقول بين المسجدتين حديث ٢٨٤),اے اللہ! میری مغفرت فرما۔مجھ پر رحم کر میرے نقص دور فرما۔مجھے ہدایت دے۔اور مجھے رزق دے۔,(ب)اللهم اغفرلي وارحمني وعافني واهدني وارزقني),اے اللہ ! میری مغفرت فرما ۔مجھ پر رحم کر۔مجھے عافیت بخشا۔مجھے ہدایت دے۔ اور مجھے رزق دے۔,(سنن ابودائود۔الصلاۃ۔باب الدعاء بین السجدتین حدیث 850)3۔اس دعا کا پڑھنا سنت ہے۔مگر کچھ لوگ اس سے غافل ہیں۔بلکہ زیادہ ہی غافل ہیں۔ امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس پر اس انداز میں افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔,لوگوں نے صحیح احادیث سے ثابت شدہ سنت کوچھوڑ رکھا ہے۔اس میں ان کےمحدث فقہ مجتہد اور مقلد سبھی شریک ہیں۔نہ معلوم یہ لوگ کس چیز پر تکیے کئے ہوئے ہیں۔,(نیل الاوطار 293/3) نیز شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ اور کچھ دیگر علماء اور ائمہ کم از کم ()پڑھنے کو واجب قرار دیتے ہیں۔