Book - حدیث 895

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حسن الصحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِي مَالِكٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ

ترجمہ Book - حدیث 895

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا(جلسہ) سیدنا علی ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی ! کتے کی طرح ایڑیوں پر مت بیٹھ۔‘‘ ایڑیوں پر بیٹھنا, اقعاء کا ترجمہ ہے۔اقعاء کی دوصورتیں ہیں۔ایک صورت ممنوع ہے ایک جائز ممنوع صورت یہ ہے کہ پنڈلیاں کھڑی کرکے سرین زمین پر رکھ کربیٹھے اور ہاتھ زمین پر رکھے۔یہ صورت کتے کے بیٹھنے کے مشابہ ہے۔ اس لئے صحیح احادیث سے اس ضعیف حدیث کی تایئد ہوتی ہے۔کیونکہ صحیح احادیث میں کتوں اور درندوں کیطرح بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔جائز صورت یہ ہے کہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے وقت دونوں پائوں کھڑے کرکے ایڑیوں پر بیٹھے جب کہ پنڈلیاں اور گھٹنے زمین پر ہوں۔اسی کوحضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنت قرار دیا ہے۔(صحیح مسلم۔المساجد باب جواز الاقعاء علی العقعین حدیث 536)